جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ٹیکہ پرلی گئی زمین میں مالک و کسان کے درمیان شرکت کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ میری زرعی زمین ہے،میں نے دوسرے شخص کوٹیکہ پردیا،دس لاکھ روپے پرپھرآپس میں شریک ہوااوراس کاتمام کام کسان کرتاہے،ازروئے شریعت میں اس کاکیاحکم ہے؟-
واضح رہےکہ شریعت مطہرہ کی روسے مزارعت کی جوصورتیں جائز ہیں،وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1.....زمین اور بیج ایک کا ہو اور بیل(یا ٹریکٹر) ومحنت دوسرے کی ہو۔
2.....زمین ایک کی ہو اور بیج اور بیل اور محنت دوسرے کی ہو۔
3.....زمین اور بیل (یا ٹریکٹر)اوربیج ایک کا ہو اور محنت دوسرے کی ہو۔
اگرمذکورہ بالاصورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہوتومزارعت فاسد ہوجائے گی۔
نیز مزارعت کے جواز کے لیے بنیادی شرائط مندرجہ ذیل ہیں-
1..... زمین کاقابلِ زراعت ہونا۔
2.....زمین دار وکسان کاعاقل وبالغ ہونا۔
3.....مدتِ زراعت کا بیان کرنا۔
4.....یہ وضاحت کردینا کہ بیج زمین دارکاہوگایاکسان کا۔
5.....جنسِ کاشت کابیان کردینا کہ گیہوں ہوگی یاجو یاعام اجازت دینا کہ جو چاہوکاشت کرو۔
6.....کسان کے حصے کا ذکر ہوجانا کہ کل پیداوارمیں کس قدر ہوگا۔
7.....زمین کو خالی کرکے کسان کے حوالہ کرنا۔
8.....زمین کی پیداوار میں کسان اور مالک کا شریک ہونا۔
لمافی"فتاوی شامیۃ":
"(دفع)رجل(أرضه إلى آخر على أن يزرعها بنفسه وبقره والبذربينهما نصفان والخارج بينهما كذلك فعملاعلى هذا فالمزارعة فاسدة،ويكون الخارج بينهما نصفين،وليس للعامل على رب الأرض أجر )؛لشركته فيه (و ) العامل(يجب عليه أجر نصف الأرض لصاحبها)؛لفساد العقد(وكذا لو كان البذر ثلثاه من أحدهما وثلثه من الآخروالرابع بينهما)أو (على قدربذرهما)نصفين فهو فاسدأيضاً؛لاشتراطه الإعارة في المزارعة(شامی6/281)-
وفی"المبسوط للسرخسی":
"قال -رحمه الله -:وإذا دفع الرجل إلى الرجل أرضاً على أن يزرعهابنفسه وبقره ، والبذربينهما نصفان ، والخارج بينهما نصفان فهذه مزارعة فاسدة؛لأن الدافع يصيركأنه قال:ازرع نصف الأرض ببذري على أن الخارج كله لي،وازرع نصف الأرض ببذرك على أن الخارج كله لك ،وكل واحد من هذين صحيح لواقتصرعليه؛لأن أحدهمااستعان بالعامل ، والآخرأعاره الأرض ولكن عند الجمع بينهما يظهر المفسد بطريق المقابلة،وهو أنه لماجعل للعامل بإزاء عمله في نصف الأرض منفعة نصف الأرض وذلك في المزارعة لايجوز،والخارج بينهمانصفان على قدر بذرهما ولاأجر للعامل؛لأنه عمل في شيء هو شريك فيه ،فإنه ألقى في الأرض بذراًمشتركاًثم عمل في زرع مشترك فلايستوجب الأجر ، ولصاحب الأرض على العامل نصف أجرمثل الأرض؛لأنه استوفى منفعة نصف الأرض بحكم عقدفاسد ،وقد بينا أن الشركة في الخارج لاتمنع وجوب أجرمثل الأرض؛لأنه يجب أجر مثل النصف الذي هومشغول بزرع العامل ،ثم يطيب نصف الخارج لصاحب الأرض؛لأنه رباه في أرضه ، وأما العامل فيتصدق بالفضل فيما بينه وبين ربه؛لأنه رباه في أرض غيره بسبب فاسد۔(26/123)-
وفی"بدائع الصنائع":
"(ومنها):أن يشترط في عقد المزارعةأن يكون بعض البذرمن قبل أحدهما ، والبعض من قبل الآخر،وهذا لايجوز؛لأن كل واحد منهما يصير مستأجراً صاحبه في قدربذره،فيجتمع استئجار الأرض والعمل من جانب واحدوإنه مفسد"۔(14/4)-
وفی"بہشتی زیور":
" مسئلہ:اپنی زمین دوسرے کو دی اس شرط کے ساتھ کہ یہ مالک خود بھی اپنے بیل(یا ٹریکٹر) سمیت کام کرے گااور بیج دونوں کا نصف نصف ہوگااورپیداواربھی دونوں کو نصف نصف ملے گی تویہ مزارعت فاسد ہے-