جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نفاس کے بعد حیض
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ نفاس کےبعدحیض کب شروع ہوتاہے؟-
واضح رہےکہ نفاس کی کم ازکم کوئی مدت نہیں،اور نہ ہی نفاس میں چالیس دن پورےکرنالازم ہے،بلکہ اگر چالیس دن سے پہلے خون بند ہوجائے توعورت اسی دن سے پاک شمارہوگی اورفرائض کی ادائیگی لازم ہوگی،عوام میں جو مشہور ہےکہ نفاس سے پاکی چالیس دن کےبعد ہوتی ہے چاہے خون پہلے ہی کیوں بند نہ ہوجائے یہ صحیح نہیں۔
اگرکسی عورت کے یہاں پہلی ولادت ہےاورخون مسلسل جاری رہا توچالیس دن نفاس کے شمارہوں گے اس کےبعدپندرہ دن تک طہر(پاکی)شمارہوں گے اوراس کے بعدحیض شمارہوگا۔اوراگرپہلی ولادت نہیں،بلکہ اس سے پہلے بھی ولادت ہوچکی ہےتودیکھاجائے گا کہ خون چالیس دن کے اندر بند ہوجاتا ہے یاچالیس دن سے زیادہ جاری رہتاہے؟اگرچالیس دن کے اندر بندہوجاتاہے تو سمجھاجائے گاکہ عادت تبدیل ہوگئی ہے،لہٰذاچالیس دن کے اندرجس دن سے خون بند ہوا اس کے بعد سے پندرہ دن تک پاکی شمار ہوگی،اس کے بعد حیض شمار ہوگا،اوراگردوسری یا اس کےبعدکی ولادت میں چالیس دن سے زیادہ خون جاری رہاتوسابقہ عادت کے مطابق نفاس کےایام شمار کیے جائیں گے،اس کےبعد پندرہ دن طہر(پاکی )کے ہوں گےپھرعادت کے موافق حیض شمارہوگا۔
لمافی"درالمختار":
وأقل الطھر بین الحیضتین أوالنفاس والحیض خمسھ عشریوماًولیالیھاإجماعاً (درمختار:۱/۴۷۷،ط:زکریا دیوبند)-
وفی"المصدرالسابق":
والناقص عن أقلھ والزائد علی أکثرہ أوأکثر النفاس أو علی العادة وجاوز أکثرھما استحاضة)-