جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ایسے شخص کو زمین اجرت پر دینا جو اس میں بھنگ اورافیون کی کاشت کرتاہوں
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں !
کہ کیاایسا شخص جس کے بارے میں آپ کومعلوم بھی ہوکہ وہ اس زمین کےاندربھنگ کی کاشت کرے گا،یاافیون کاشت کرےگا،ایسے شخص کوزمین اجرت پردیناجائز ہےیانہیں؟-
واضح رہےکہ بھنگ اورافیون کا جائز استعمال بھی ہے،مثلاً:دوا وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے،اس لیے بھنگ اورافیون کی کاشت کےلیےزمین اجرت پردینا جائز ہے،اور اگر اس شخص کے بارےمیں یہ معلوم ہو،کہ وہ بھنگ سے چرس بنائےگایاافیون سے تاریک بنائےگا،تواس شخص کو زمین اجارے پر دینا جائز نہیں۔
لمافي"درالمختار":
(وصح بیع غیر الخمر)مما مرومفادہ صحت بیع الحشیش،والأفیون قلت:وقدسئل ابن نجیم عن بیع الحشیش ھل یجوز فکتب:لایجوز،فیحمل علی أن مرادہ بعدم الجواز عدم الحل‘‘.)ـ
وفي الرد":
’’(قولھ: وصح بیع غیر الخمر) أي: عندہ خلافا لھمافي البیع، والضمان،لکن الفتوی علی قولھ في البیع،وعلی قولھما في الضمان إن قصد المتلف الحسبھ وذلک یعرف بالقرائن،وإلا فعلی قولھ کما في التتارخانیھ وغیرھا.ثم إن البیع وإن صح لکنھ یکرہ کما في الغایۃ‘‘(کتاب الأشربھ١٠/ ٤٨، ٤٧، ٤٦، ٢١:رشیدیھ)-
وفیھ أیضاً:
’’والحاصل أن جواز البیع یدر مع حل الانتفاع‘‘.(کتاب البیوع،باب بیع الفاسد: ٥/ ٦٩:سعید)-