جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورت کا غیر محرم مرد کا جھوٹا کھانا یا پینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ کیا کوئی عورت غیر محرم مرد کاجھوٹا کھا سکتی ہے،اور جھوٹا پی سکتی ہے؟-
واضح ہےکہ عورت کےلیے کسی غیرمحرم مرد یامرد کے لیےکسی غیر محرم عورت کاجھوٹاکھانایا پینامکروہ ہے،لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
لمافی"فتاوی شامیھ":
"(فسؤر آدمي مطلقا)....نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ واستعمال ريق الغير، وهولايجوز مجتبى...(قوله نعم يكره سؤرها إلخ) أي في الشرب لا في الطهارة بحر.قال الرملي:ويجب تقييده بغير الزوجة والمحارم."(كتاب الطهارة، باب المياه، فصل في البئر، فرع البعد المانع من وصول نجاسة البالوعة إلى البئر، :1 :221 ط: سعید)-
وفی"البحر الرائق":
"فقد صرح في المجتبى من باب الحظر والإباحة أنه يكره سؤر المرأة للرجل وسؤره لها."(كتاب الطهارة، طهارة سؤر الآدمي والفرس وما يؤكل لحمه، :1 :133ط: دار الکتاب الإسلامي)-