جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
موبائل میں تلاوت کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ کیاموبائل میں قرآنِ کریم پڑھنا جائز ہے؟میں اپنے موبائل پر تلاوت کرتاہوں مگر مجھےدوبندوں نے ٹوکا کہ اس میں مت پڑھو ؛کیوں کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ لیٹرین میں یاکسی گندی جگہ پر بیٹھ کر قرآن پڑھ رہے ہیں؟-
واضح رہےکہ موبائل میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے،البتہ موبائل کی اسکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہوتواس (اسکرین)کو وضوء کے بغیرچھوناجائزنہیں ہے،اس کے علاوہ موبائل کے دیگر حصوں کومختلف اطراف سے وضوء کے بغیرچھونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
باقی قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانایہ اس کا احترام ہے، اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے، اور یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں موبائل میں مکمل حاصل نہیں ہوتیں، اس لیے جہاں تک ہوسکے مصحف ہی سے پڑھا جائے، اگر کبھی ضرورت ہو تو موبائل سے پڑھ لیں، ورنہ عام حالات خصوصاً مسجد میں جہاں سہولت سے قرآن میسر بھی ہیں وہاں موبائل کے بجائے مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
باقی اسمارٹ فون کا صرف جائز استعمال کرنا چاہیے، اس سے جان دار کی تصاویر لینا یا اس میں محفوظ رکھنا، یا جان دار کی ویڈیوز بنانا یا محفوظ رکھنا یا دیکھنا، یا فلمیں دیکھنا یا محفوظ رکھنا، یا موسیقی سننا یا محفوظ رکھنا سب ناجائز ہے، لہٰذا اپنے موبائل کو ان خرافات سے پاک رکھنا چاہیے،نہ یہ کہ ان اشیاء کو تو نہ چھوڑےاور قرآنِ پاک کی تلاوت چھوڑ دے، اگر موبائل میں قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرے تو ممکن ہے کہ اس حیا کی وجہ سے فلم بینی چھوڑ دے کہ جس آلے کےذریعے قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا ہوں،اسی میں گناہ کی اشیاء کیوں دیکھوں-
لمافی"فتاوی شامیھ":
"(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرزأو بصرة به يفتى، (قوله: أي ما فيه آية إلخ) أي المراد مطلق ماكتب فيه قرآن مجازا، من إطلاق اسم الكل على الجزء، أو من باب الإطلاق والتقييد.قال ح: لكن لايحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب:أي موضع الكتابة كذا في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لا يكره مسه كما في حيض القهستاني.وينبغي أن يجري هنا ماجرى في قراءة ما دون آية منالخلاف،والتفصيل المارين هناك بالأولى؛لأن المس يحرم بالحدث ولو أصغر،بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل".(۱/ ۱۷۳، کتاب الطھارۃ، ط:ایچ ایم سعید)ـ