جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اپنی دکان بینک کو کرایہ پر دینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ میں اپنی دکان بینک کو کرایہ پر دے سکتا ہوں؟کرایہ جائزاور حلال ہے؟-
واضح رہےکہ اگر یہ بینک غیر اسلامی ہےتوواضح ہوکہ کسی بھی غیر اسلامی بینک کو اپنی زمین و جائیداد کرایہ پر دینے کی اگرچہ گنجائش ہے مگر جب ان بینکوں کاسودی معاملات میں ملوّث ہونا یقینی ہے تواس صورت میں کسی ایسے سودی معاملات انجام دینے والے ادارہ کواپنی زمین و جائیداد وغیرہ کرایہ پردینے سے احتراز ہی چاہے۔
لمافی"الدرالمختار":
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) و أما الأمصار و قرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها و خص سواد الكوفة ، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) و قالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية و به قالت الثلاثة زيلعي (6/392)۔