جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نقدی میں قربانی کے نصاب کےلیےسونا یا چاندی
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ کیانقدی میں قربانی کے نصاب کے لیےچاندی کےبجائےسونا ہے،یعنی جس کے پاس ساڑهے سات تولہ سونے کی مالیت کے برابر نقدی نہ ہواس پرقربانی واجب نہیں؟-
واضح رہےکہ اگر کسی شخص کے پاس قربانی کے ایام میں نصاب کے بقدرسونا(ساڑهے سات تولے)یا نصاب کے بقدرچاندی(ساڑهے باون تولے)موجودہویاان میں سے کسی ایک کے بقدر نقدی،سامان تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہوتواس پر قربانی واجب ہے۔ موجودہ دورمیں ملکی کرنسی کو ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے،لہذا جس شخص کے پاس اتنی رقم موجود ہو جس سے سونا یا چاندی کا نصاب خریدا جاسکے تو ایسا شخص صاحب نصاب شمار ہوگا اور اس پر زکوٰۃ اور قربانی واجب ہوگی۔
عصرحاضرمیں سونے اور چاندی کی مالیت میں کافی تفاوت آنے کی وجہ سےچاندی سونے کے مقابلہ میں بہت کم قیمت کی ہوتی ہے،لہذا زکوٰۃ کے سلسلہ میں فقہاے کرام نے"انفع للفقراء" کا اعتبار کرتے ہوئے نقدی میں چاندی کے نصاب کو معتبرقراردیا ہے،اس لیے کہ نقدی میں چاندی کا نصاب پہلے پورا ہوجاتا ہے،چونکہ عبادات میں احتیاط کا پہلو راجح ہے،اس لیے نقدی میں چاندی کے نصاب پر فتوی دیاجاتا ہےاوراسی میں فقراءکانفع بھی ہے۔
لہذاقربانی میں بھی اسی کو اختیارکیاگیاہے،اوراس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے،کیونکہ چاندی کے نصاب کامالک اتنی وسعت رکھ سکتاہےکہ قربانی کےجانورمیں ساتواں
حصہ خریدلےیاکوئی
چھوٹااورکم قیمت والاجانورخرید لے۔
چنانچہ نقدی میں قربانی کے لیے مفتی بہ قول چاندی کے نصاب کا ہے،لہذااگر کسی کے پاس چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔
لمافی"الھندیھ":
وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔۔۔۔۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔.(إلخ•)(كتاب الأضحية،الباب الأول:في تفسيرهاوشرائطها،5،:336۔337)ـ
لمافی"الھدایھ":
ثم قال يقومها بما هو أنفع للمساكين احتياطا لحق الفقراء قال رضي الله عنه وهذا رواية عن أبي حنيفة رحمه الله وفي الأصل خيره لأن الثمنين في تقدير قيم الأشياء بهما سواء وتفسير الأنفع أن يقومها بما يبلغ نصابا (إلخ•)“(الكتاب الزكاة،باب الزكاةالمال،فصل في العروض،2،41)-
وفی"المبسوط للسرخسی":
عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى –((في الأمالي))أنه يقومها بأنفع النقدين للفقراء۔۔۔۔۔وجه قول أبي حنيفة أن المال كان في يد المالك وهو المنتفع به في زمان طويل فلا بد من اعتبار منفعة الفقراء عند التقويم لأداء الزكاة فيقومها بأنفع النقدين. ألا ترى أنه لو كان بتقويمه بأحد النقدين يتم النصاب وبالآخر لا يتم فإنه يقوم بما يتم به النصاب لمنفعة الفقرا۔(إلخ•) (الكتاب الزكاة،باب زکوٰۃ المال،2،:)-