جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نہرسے اپنی زمین کے حصہ کا پانی فروخت کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ہمارے علاقے میں یہ صورت بہت مروج ہوتے ہےکہ پانی کے عوض فصل کاحصہ لیتاہے،اب اس کا کیاحکم ہے شریعت میں؟-
واضح رہے کہ پانی کے عوض فصل کاحصہ لینا جائزنہیں ،کل پیداوار مالک اور مزارع کے درمیان برابر تقسیم ہوگی، عشر بھی ان دونوں پر واجب ہوگا، ٹیوب ویل کے مالک کواجرمثل بصورت نقد ملے گی ـ
(کتاب المزارعت، 7/ 378ایچ ایم سعید)ـ
لیکن ہمارے یہاں اس مسئلہ میں عموم بلوی کی صورت پائی جاتی ہے، علامہ زحیلی رحمہ اللہ نے صرف پانی کے لیے ایک حصہ مقرر کرنے کو فتاوی العصر میں جائز لکھا ہے، جس کی عبارت حسب ذیل ہے-
وفی"فتاوی العصریۃ":
"له ارض و اخر عنده ماء؟ يجوز ان يعطيه نسبة من غلة المحصول و يأخذ من الماء".....(إلخ•)-