جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چوری شدہ مال کا مالک معلوم نہ ہو تو اس سے بری الذمہ ہونے کا طریقہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک شخص نے موٹر سائیکل چوری کیا،بعد میں قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کی تواسے احساس اور خوفِ آخرت ہوا اوروہ واپس کرنا چاہتا ہے لیکن نہ تو صاحب حق کاپتہ ہے اورنہ اس کے خاندان کاتواب اسے کیاکرنا چاہیے کہ فراغ الذمہ ہوجائے ؟-
واضح رہے کہ صورت مسئولہ ميں مذكوره شخص كو چاہیےكہ سب سے پہلے اس گناه پرصدقِ دل سے توبہ واستغفاركرے، اوراس كے بعد مذکورہ چوری کئے ہوئے موٹر سائیکل جس شخص کے تھا،اس کو کسی طرح تلاش كرنے کی کوشش کرے،اگر وہ زندہ ہوتو اس کو،ورنہ اس کے ورثاء كووہ موٹر سائیکل اگرموجودہوتودےدے اوراگرموجود نہ ہوتو
اس کی قیمت پہنچادے، لیکن اگر تلاش کے باوجود حق دار اور اس کے ورثاء نہ مل سکیں توایسی صورت میں اس رقم کو اصل مالک کی نیت سے مستحق زکوٰۃ شخص کوصدقہ کردے۔
لمافی"فتاوی الشامیۃ":
'' (عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله)، هذا مذهب أصحابنا لا نعلم بينهم خلافاً.(قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم''.4 /283، کتاب اللقطة، ط: سعید)-