جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
باپ کی صورت میں بچوں کی پرورش کا حق کس کو ہوتا ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ اگرکوئی شخص چرسی ہوں اور اپنے بچوں کی پرورش صحیح طرح نہیں کرسکتاہوں توبچوں کی پرورش کاحق کس کوہےاورمذکورہ شخص کاوالد بھی زندہ ہویعنی بچوں کاداداتواس کاکیاحکم ہے؟-
واضح رہےکہ صورتِ مسئولہ میں لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمرنو سال ہونےتک پرورش کا حق (ماں)کوحاصل ہے۔
مذکورہ عمر کے بعد بلوغت تک دونوں کی تربیت کا حق باپ کو حاصل ہوگا، تاہم اگر بچوں کا باپ ایسا فاسق ہے کہ اس کے فسق کا ضرر بچوں پر پڑنے اور ان کی تربیت خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو اس کا حقِِ تربیت ساقط ہو جائےگا اور ایسی صورت میں پھر بچے کا دادا، وہ نہ ہو تو بچے کے چچا کو تربیت کا حق حاصل ہوگا، کیوں کہ حقِ تربیت کےثبوت کےلیے دین دار ہونا شرط ہے اور اگر والد ایسا فاسق نہیں ہے کہ جس کے فسق کا اثر بچوں پر پڑ سکتا ہے،تو پھراسے تربیت کا حق حاصل ہوگا، نیز بلوغت کے بعد دونوں کو اختیار ہوگاکہ جس کے پاس رہناچاہیں رہ سکتے ہیں-
لمافی "الفتاوى الھندیھ":
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين".كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، :1، :541، ط:رشيدية)ـ
وفی "الموسوعۃ الفقھیھ":
"الأمانة في الدين، فلاحضانۃ لفاسق، لأن الفاسق لا يؤتمن، والمراد: الفسق الذي يضيع المحضون به، كالاشتهار بالشرب، والسرقة، والزنى واللهو المحرم، أما مستور الحال فتثبت له الحضانة. قال ابن عابدين: الحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها، وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل الولد فجور أمه فينزع منها".(الحضانة، ما يشترط فيمن يستحق الحضانة ، 17، :306، ط:طبع)-