جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
تصوف سلوک وبیعت شریعت میں ثابت ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ پیری مریدی کی ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ میرا تعلق مکتبہ فکر دیوبند سے ہے ،لیکن میرا ضمیر نہیں مانتا کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو پیر مانوں بریلویوں کی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے تو یہ سب بالکل ٹھیک ٹھاک ہواہےپھر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف بدعات آتی رہی ہیں ، کیا پیری مریدی امام ابو حنیفہ سے ثابت ہے ؟ اگر ہے تو وہ کس کے مرید تھے؟-
واضح رہےکہ کسی شخص کااچھے اخلاق کو اپناکر برے اخلاق سے اپنے آپ کو بچانااور اس کے لیے کسی سے راہ نمائی لینا اور کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دینا تصوف و بیعت کہلاتااور جو یہ طریقہ سکھلائے اس کوپیرکہاجاتا ہے، سیکھنے والے کو مرید کہاجاتاہے
لہذا :پیری مریدی کےاسی معنی کے لحاظ سے حضرت امام ابوحنیفہ (رحمہ اللہ)بھی اپنے ان اساتذہ کے مرید تھے جواپنے وقت کے فقہاء شمارہوتے تھے،چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اپنے استاذ حماد بن ابی سلیمان کی زیرتربیت رہےیہاں تک کہ ان کے وفات کےبعد ان کےجانشین قرارپائے۔
لمافی" اعلام السلف":
"وحماد بن أبي سليمان، فهذا هو شيخه المباشر الذي كان في حلقته وعلى كرسيه بعدما توفي."(الإمام أبو حنيفة، شيوخ وتلاميذ الإمام أبي حنيفة، ٣، :١٠، ط:دار الإيمان الأسكندرية)-
وفی "علو الھمھ":
"واستمر أبو حنيفة ملازمًا أستاذه ثماني عشرة سنة، ولم يستقل بالدرس والتمحيص إلا بعد وفاة حماد."(الباب الخامس، الفصل الرابع أطفالنا وعلو الهمة، كبار الهمة النابغون مختصر الطريق إلى المجد، :٣٩٠، ط:دار الإيمان الأسكندرية)-