جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
فجر کے فورًا بعد سونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ فجر کی نماز کے بعد فورًا سو جانا کیسا ہے؟-
واضح رہےکہ فجر کی نماز کے بعد بغیر کسی ضرورت کے طلوعِ آفتاب سے پہلے سونا مکروہ ہے۔
مستحب یہ ہے کہ صبح صادق (یعنی فجر کا وقت داخل ہونے) سے لے کر سورج طلوع ہوکر اشراق کا وقت ہونے تک آدمی جاگتا رہے، اور اس پورے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے، فجر کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ ذکروتلاوت، استغفارودعا میں مشغول رہے، اور اشراق کاوقت ہوجانےکے بعد اشراق کی نماز ادا کرکے پھر ضرورت ہو تو سوجائے، اس لیے کہ از روئے روایات فجر کی نماز کا مکمل وقت ارزاق وغیرہ کی تقسیم کا وقت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوکر برکت اور خیر کی دعا اور ذکر میں مشغول رہنا چاہیے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے رات میں نیند نہ کرسکا ہو اور دن میں نیند کرنے کا موقع نہ ہو، یا کوئی عذر ہو تو فجر کی نماز اپنے وقت میں ادا کرنے کے بعد یا اس سے پہلے فجر کے وقت میں سونا ممنوع نہیں ہے۔
لمافی"الفتاوى الهندية":
"ويكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء"(376/5)-
وفیه أيضًا:
"ولا یتکلم بعد الفجر إلى الصلاة إلا بخير، وقیل: بعدها أيضًا إلى طلوع الشمس". (5/380)-