جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مرد کتنے نکاح کرسکتاہے
کیافرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ شریعت نے مرد کو بیک وقت صرف چار نکاح کرنے(چار بیویاں نکاح میں رکھنے)کی اجازت دی ہے؟ـ
واضح رہے کہ مردکے لیے زندگی میں نکاح کی تعداد متعین نہیں ہے، البتہ ایک وقت میں چار بیویوں سے زیادہ بیویاں نکاح میں رکھنا ناجائز ہے۔ نیزچاربیویاں رکھنے کے لیے بھی شریعت نےچاروں بیویوں کے ہرمعاملہ میں برابری (عدل و انصاف)کی شرط رکھی ہے،اگرمرد عدل و انصاف نہ کرسکتا ہو پھر ایک بیوی پر اکتفاء کا حکم ہے۔
لمافی"قرآن پاک":
"وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ (بیان القرآن، سورۃ النساء، آیت نمبر:3، 2، 91، ط:میرمحمد کتب خانھ-کراچی)ـ
وفی"تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير":
"المسألة السابعة: قوله: مثنى وثلاث ورباع محله النصب على الحال مما طاب، تقديره: فانكحوا الطيبات لكم معدودات هذا العدد، ثنتين ثنتين، وثلاثًا ثلاثًا، وأربعًا أربعًا".(سورة النساء، الآية:3، :9، :488، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)-
وفی"فتاوی شامیھ":
"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر".(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، فروع طلق امرأته الخ، :3، 48، ط:سعيد)-