جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
داڑھی منڈوانے میں اپنے آپ کو خوبصورت سمجھنے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ لوگ خوبصورتی کی وجہ سے داڑھی منڈواتےیا ایک مشت سے کم کرتے ہیں تواس کامطلب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں کو داڑھی میں خوبصورتی نہیں لگتی اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ ﷺکی ادنی سنت سے ناپسنددیدگی کا اظہارکفر ہےتو کیا ایسی صورت پر ناپسنددیگی کا اطلاق صادق آتا ہے یانہیں؟اسی طرح لوگ داڑھی منڈواکر آئینے میں اس لئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں،ایسے میں اگر ان کو اپنا آپ خوبصورت نظر آئیں تو کیا یہ کفر ہے یافسق؟اگرکوئی شخص داڑھی کو سنت اور شریعت کا حکم مانتا ہو اور اس کی توہین بھی نہ کرتا ہو لیکن اس کو شیوہ کرنے میں اپنے آپ کو خوبصورت کہتا اور مانتا ہو تو اس سے کافر ہوگا یا نہیں؟-
واضح رہےکہ داڑھی
رکھناتمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائر دین میں سے ہے۔آپ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کی ہدایت دی اور اس کے رکھنے کا حکم دیا ، اس لیے جمہور علمائے امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرناحرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔اوراس کا مرتکب فاسق اورگناہ گار ہے،لیکن اگر کوئی شخص شریعت کے احکام کو مانتا ہو مگر ماحول یا فاسد طبیعت کی وجہ سے اس پر عمل نہ کرتا ہو تو اس سے کفر لازم نہیں آتا ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص داڑھی منڈوانے کی توہین و تحقیرنہ کرے لیکن اُسے اپناچہرہ داڑھی کے بغیر خوبصورت نظر آتا ہوتو یہ اس کے عقیدے کا فساد نہیں،طبیعت کا فساد ہےکہ اچھا اُسے برا اور برا اُسے اچھا لگ رہا ہےلہذا اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہی حکم دیگر گناہوں کے ارتکاب کا بھی ہے۔
لمافی"صحیح البخاری":
وعن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: انهکوا الشوارب وأعفوا اللحی". (کتاب اللباس،باب إعفاء اللحی،ج:2؍:875،رقم الحديث:5893)-
لمافی"فتح القدیر":
«جزوا الشوارب وأعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل. وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد.(،ج:2،:348)ـ
لمافی:"تفسیرروح المعانی":
وأما ساداتنا الحنفية رضي الله تعالى عنهم فلم يشترطوا في الإكفار سوى القطع بثبوت ذلك الأمر الذي تعلق به الإنكار لا بلوغ العلم به حد الضرورة وهذا أمر عظيم وكأنه لذلك قال ابن الهمام: يجب حمله على ما إذا علم المنكر ثبوته قطعا لأن مناط التكفير التكذيب أو الاستخفاف(:1،:29)-
وفي"جامع الفصولين روى الطحاوي عن أصحابنا:"
لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ما تيقن أنه ردة يحكم بها به وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بشك مع أن الإسلام يعلو.( البحر الرائق،:5،:143)ـ
وفی"فتاوی هندیه":
إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة.(الباب العاشر في البغاة،ج:2،:283)-