جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عمرہ کرنے والا اگر سعی کرنا بھول جائے اور حلق کروالے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ عمره کرنے والے اگر سعی کرنا بھول جاۓ اورحلق کر والے تواس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں پہلے عمرہ میں طواف کےبعد سائل نے سعی نہیں کی ، نہ اس کا اعادہ کیااور سرمنڈوالیا توسائل پر سعی چھوڑنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا،چناں چہ دم ادا کرلینےکے بعد دوبارہ سعی یا عمرہ کو لوٹانا ضروری نہیں ہے پہلا عمرہ ادا ہوجائے گا، اس لیے کہ سعی واجبات میں سے ہے، اور دم سے اس کا نقصان پورا ہوجاتا ہے،اور چوں کہ دوسرےعمرے میں سائل نے طواف ، سعی اور حلق تمام چیزیں بالترتیب کی ہے اس لیے اس کا دوسر ا عمرہ بھی ادا ہوگیاہے ۔
لمافی"مبسوط للسرخسي":
"(قال:) وإن ترك السعي فيما بين الصفا، والمروة رأسًا في حج أو عمرة فعليه دم عندنا، وهذا؛ لأن السعي واجب، وليس بركن عندنا، الحج والعمرة في ذلك سواء، وترك الواجب يوجب الدم وجحتنا في ذلك قوله تعالى: {فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما} [البقرة: 158]، ومثل هذا اللفظ للإباحة لا للإيجاب فيقتضي ظاهر الآية أن لايكون واجبًا، ولكنا تركنا هذا الظاهر في حكم الإيجاب بدليل الإجماع، فبقي ما وراءه على ظاهره".(كتاب المناسك ، با ب السعي بين الصفاوالمروة ،4 / 50،ط:دارالمعرفة)-
وفی"فتاوى ھنديھ":
"ومن ترك السعي بين الصفا والمروة فعليه دم وحجه تام، كذا في القدوري".(كتاب المناسك،1 / 247)-