جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حیض کا خون رکنے کے بعد غسل سے پہلے مباشرت کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ حیض کاخون رکنے کے بعد غسل سے پہلے مباشرت کرنا جائز ہے یا نہیں؟۔
عورت کے ماہواری سے پاک ہونے میں تفصیل یہ ہے، کہ اگرحیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن میں ختم ہواہے، توخون منقطع ہوتے ہی غسل سے قبل عورت سے مجامعت درست ہے،اگرچہ بہتر یہ ہے، کہ غسل کے بعدہمبستری کرے۔اور اگر دس دن سے پہلے ماہواری ختم ہو گئی ، مثلاً: چھ ،سات روز میں اور عورت کی عادت بھی چھ یا سات روز کی تھی توخون کے موقوف ہوتے ہی ہمبستری درست نہیں، بلکہ حیض ختم ہونے کے بعد جب عورت غسل کر لے یا ایک نماز کا وقت گزر جائے (جس میں غسل کرکے کپڑے پہن کر نماز شروع کرسکے) اس کے بعد مجامعت درست ہو گی۔ اور اگر عادت کے ایام سے پہلے ہی خون بند ہوگیا ہو، اس صورت میں عادت کے ایام مکمل ہونے سے پہلے ہمبستری جائز نہیں، ممکن ہے کہ وقتی طور پر خون بند ہواہو اور دوبارہ لوٹ کر آجائے۔
لمافی"ردالمحتار":
''(ويحل وطؤها إذا انقط حيضها لاكثره) بلا غسل وجوبابل ندبا.(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لاقله) فإن لدون عادتها لم يحل، أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب بحر، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا، وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه(أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب."
(1/294،ط:دارالفکر)