جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کرایہ داری کامعاہدہ وقت سے پہلےختم کرنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں!
کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اپنا دکان ایک سال کے لیے کرایہ پہ دیدے،اور یہ معاہدہ کیا ہو کہ دکان خالی ہونے سے پہلے ایک ماہ قبل مجھے بتانا تاکہ میں کسی اور کو پھر یہ دکان کرایہ پہ دیدو،دکان کرایہ پہ لینے والے نے دکان خالی(یعنی سال پوراہونے سےپہلےہی نکل گیا)کرنےسے پہلے اس کونہیں بتایااورکرایہ دار نے ایک مہینےکاپیسےاپنے پاس روک لیے کہ میں آپ کو ایک مہینےکےپیسےنہیں دونگالہذا کرایہ دارکےلیےپیسےروکناشرعاً جائز یا نہیں؟۔
صورتِ مسئولہ میں دکان کےمالک اورکرایہ دار نےباہمی رضامندی ایک سال کامعاہدہ کیااورکرایہ دارنےپیسےایڈوانس میں دئےتو ایسی صورت میں کرائےدار کو چاہیےکہ اس عقد پرقائم رہے،بلا عذر شرعی یکطرفہ طورپرکرائےداری کےمعاملہ کوختم کرنادرست نہیں،لیکن کرایہ داراگروقت سےپہلےدکان خالی کررہا ہے،اورکسی معقول عذرکی وجہ سےوقت سےپہلےدکان خالی کررہا ہےتودوکان کے مالک کوچاہیےکہ باہمی رضامندی سےعقد ختم کرکے کرایہ دارکی ایڈوانس کی مدمیں دی ہوئی رقم واپس کردےاس صورت میں رقم روکنادرست نہیں،البتہ جتنے دن دکان استعمال کی ہےاتنے روزکاکرایہ دکاندار پرلازم ہوگا۔
لمافی بدائع الصنائع:
"وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلاتفسخ من غير عذر".وقال شريح: إنها غير لازمة وتفسخ بلا عذر؛ لأنها إباحة المنفعة فأشبهت الإعارة، ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال - سبحانه وتعالى-: {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: - رضي الله عنه - " البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعًا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلاينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع."
(کتاب الاجارۃ،فصل فی حکم الاجارۃ:4/ 201،دار الکتب العلمیۃ)
وفی الھندیة:
"ولو شرط ثلاثة فسكن في مدة الخيار سقط الخيار ولو انهدم المنزل بالسكنى لا ضمان لأنه سكن بحكم الإجارة وأول المدة من وقت سقوط الخيار. كذا في الوجيز للكردري."
(كتاب الإجارة،الباب الخامس في الخيار في الإجارة والشرط فيها:4/419،ط:رشيدية)