جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
غلیل سےپرندوں کا شکاراورکھانےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیاپرندہ کوغلیل وغیرہ سےشکار کرنااورکھاناجائز ہے؟-
واضح رہےکہ پرندوں کاشکارکرناجائز ہے،اور شکارکیےہوئےحلال پرندوں کا کھانابھی جائز ہے،شرعی طور پر اس میں قباحت نہیں ہے،شکارکاجائزہوناقرآن وحدیث سےثابت ہے،اللہ نےحلال پرندوں کوکھاناحلال کیاہےاوران کوانسانوں کےنفع کےلیےبنایا ہے،بشرطیکہ شکار کرنے سےلہو ولعب مقصود نہ ہو۔ نیزشکارکوپیشہ بنانااور شکارکرکےفروخت کرنا یہ بھی جائزاور درست ہے۔البتہ شرعی حدودکاخیال اورعبادات کا اہتمام بھی ساتھ لازم ہے، شکارکی وجہ سےنمازیں قضاکرنادرست نہ ہوگا۔
غلیل کےشکارکا حکم لاٹھی کاہے؛ لہذا غلیل سےشکار کیےہوئےپرندے پر قابوپاکر اسےذبح کیا تواس کا کھاناجائزہے،اگر غلیل ہی سےمرگیا تواس کاکھاناجائزنہیں ہے۔
یہ بھی یادرہےکہ بندوق کی گولی سےکیاہواشکاراگر ذبح سے پہلے مرجائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا،اور اگر گولی سے شکار کرنے کے بعد جانور کو زندہ زخمی حالت میں پالیااورپھراس کواللہ کانام لےکرذبح کردیاجائےتواس کوکھاناجائزہوگا؛ لہٰذابسم اللہ پڑھ کرچھوڑی ہوئی گولی سےکیاہواشکارذبح سےقبل مرجائےتو اس کا کھاناجائزنہیں ہے۔
البتہ اگر دھاری دارچیز(جیسے تیر وغیرہ)سےشکارکیاجائے،اوراسےچھوڑنےسےپہلےبسم اللہ پڑھ لیاجائےاوراس جانور پر قابوپانےسے پہلے ہی وہ مرجائےتواس شکارکاکھانادرست ہوگا۔
لمافی الدرمع الرد:
قال قاضي خان: لايحل صيد البندقة و الحجر و المعراض و العصا و ما أشبه ذلك و إن جرح؛ لأنّه لايخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده و طوله كالسهم و أمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك و خرقه بحده حل أكله، فأما الجرح الذي يدق في الباطن و لايخرق في الظاهر لايحل؛ لأنه لايحصل به إنهار الدم."
(کتاب الصید:6/471،ط:رشیدیہ)