جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
امام چار رکعت والی فرض نماز میں پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو امام، مقتدی اور مسبوق کی نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر امام غلطی سے چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت میں چلا جائے،تو امام اور مقتدیوں کی نماز فاسد ہوجائےگی؟ پھرجومسبوقین ہیں ان کا کیاحکم ہے؟ان کی تو رکعتیں پوری ہوگئیں،آیا اب ان کی نماز بھی امام کے تابع ہونےکی وجہ سے فاسد ہوگئی یا نہیں؟-
اگرامام غلطی سےچار رکعت والی فرض نماز میں پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوجائےتوامام اورمقتدیوں کی نمازمطلقافاسدنہیں ہوتی،بلکہ اس میں یہ تفصیل ہےکہ:
اگر امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کےبعدپانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو اس کے لیے یہ حکم ہےکہ جب تک وہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرلےقعدہ کی طرف واپس لوٹ آئےاور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے،اوراگرپانچویں رکعت
کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادےاورآخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔
اور اگرامام نےچوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کےسجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے،اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب فرض نماز باطل ہوگئی،اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔
اوراس صورت میں مقتدی کے لیے یہ حکم ہےکہ:
مقتدی امام کے ساتھ کھڑا نہ ہو،بلکہ امام کا انتظار کرے، اگر امام پانچویں رکعت کے سجدہ کر لینے سے پہلے لوٹ آیااوروہ قعدہ آخرہ کرچکا تھاتومقتدی بھی اس کا ساتھ دے اوراسکےساتھ سلام پھیر دے اور اس کےساتھ سجدہ سہو کرےاوراگرامام نےپانچویں رکعت کاسجدہ کرلیاتومقتدی تنہا سلام پھیردے،اس کی نماز ہوجائے گی۔
اوراگر امام نےقعدہ آخرہ نہیں کیا تھااوروہ پانچویں رکعت کےسجدے سے پہلے لوٹ آیاتب تو مقتدی اس کا ساتھ دے،لیکن اگر پانچویں رکعت کاسجدہ کرلیاتو امام اور مقتدی سب کی نمازفاسد ہو جائے گی،سب نئے سرے سے پڑھیں گے۔‘‘
اور مسبوق کا حکم یہ ہےکہ:
اگرامام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھنے کے بعد بھول سےکھڑا ہوگیا تھااور اس کےساتھ مسبوق بھی اس کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا تھا توامام کی اتباع میں کھڑےہوتےہی اس کی نماز فاسدہوگئی،اس پر لازم تھا کہ بیٹھارہتااورامام کےلوٹنے کا انتظارکرتااورامام کے سلام پھیرلینےکےبعد بقیہ نماز پوری کرنےکے لیےکھڑاہوتا، لیکن اگر امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھے بغیر ہی پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ مسبوق بھی اس کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا تھاتو اس صورت میں امام کی اتباع میں کھڑے ہونے سےاس کی نماز فاسد نہیں ہوئی،البتہ چوتھی رکعت کےقعدہ میں بیٹھے بغیر پانچویں رکعت کا سجدہ کرتے ہی امام کی فرض نماز باطل ہوگئی اور مکمل نماز نفل بن گئی اور امام کےساتھ مسبوق کی نماز بھی نفل بن گئی،اب امام کے سلام پھیرنے کےبعدمسبوق وہ والی ایک رکعت بھی پڑھ لےجو اس سے شروع میں چھوٹ گئی تھی، لیکن امام اور تمام مقتدیوں بشمول مسبوقین پر لازم ہےکہ اپنی اس فرض نمازکودوبارہ نئے سرے سے پڑھیں، کیوں کہ فرض(یعنی قعدہ اخیرہ ) چھوٹنے کی وجہ سے کسی کی بھی فرض نماز ادا نہیں ہوئی۔
لمافی الفتاوى الهندية:
’’رجل صلى الظهر خمساً وقعد في الرابعة قدر التشهد إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة عاد إلى القعدة وسلم، كذا في المحيط. ويسجد للسهو، كذا في السراج الوهاج. وإن تذكر بعدما قيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة لايعود إلى القعدة و لايسلم، بل يضيف إليها ركعةً أخرى حتى يصير شفعاً ويتشهد ويسلم، هكذا في المحيط. ويسجد للسهو استحساناً، كذا في الهداية. وهو المختار، كذا في الكفاية. ثم يتشهد ويسلم، كذا في المحيط. والركعتان نافلة ولا تنوبان عن سنة الظهر على الصحيح، كذا في الجوهرة النيرة ... وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة، هكذا في المحيط. وفي الخلاصة: ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو، كذا في التتارخانية. وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا، كذا في المحيط‘‘
(کتاب الصلوة:1/129،ط:رشیدیہ)
وفی درمع الرد:
"وأربعة لايتبع فيها: زيادة تكبير عيد، أو جنازة، وركن، وقيام لخامسة.
(قوله: وقيام لخامسة) داخل تحت قوله: وركن، تأمل. قال في شرح المنية: ثم في القيام إلى الخامسة إن كان قعد على الرابعة وينتظره المقتدي قاعدًا، فإن سلم من غير إعادة التشهد سلم المقتدي معه وإن قيد الخامسة بسجدة سلم المقتدي وحده؛ وإن كان لم يقعد على الرابعة. فإن عاد تابعه المقتدي، وإن قيد الخامسة فسدت صلاتهم جميعًا، ولاينفع المقتدي تشهده وسلامه وحده. اهـ"
(کتاب الصلوة:2/12،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
’’ولوقام إمامه لخامسة فتابعه، إن بعد القعود تفسد و إلا لا حتى يقيد الخامسة بسجدة.
(قوله:أن بعد القعود) أي قعود الإمام القعدة الأخيرة (قوله: تفسد) أي صلاة المسبوق؛ لأنه اقتداء في موضع الانفراد، و لأن اقتداء المسبوق بغيره مفسد، كما مر (قوله: وإلا) أي وإن لم يقعد و تابعه المسبوق لاتفسد صلاته؛ لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض و لعدم تمام الصلاة، فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلاً، فإن ضم إليها سادسةً ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون له نافلة كالإمام، ولا قضاء عليه لو أفسده؛ لأنه لم يشرع فيه قصداً، رحمتي‘‘.
(کتاب الصوة:1/599،ط:سعید)