جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پیش امام کو حرام آمدنی سے تنخواہ دینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ مسجدامام کے لیے حرام امدنی تخواہ لینا جاٸزہے؟
جو مال ناجائز اور حرام طریقے سے حاصل کیا جائے وہ اصل مالک کوواپس لوٹانا واجب ہے،ایسے مال سے تنخواہ اور ہدیہ وصول کرنا جائز نہیں؛لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر سائل کے محلہ کے افرادکی مکمل آمدنی یا اکثر حرام ہو تو پھر اس ان سے تنخواہ اور کھانا وصول کرنا جائز نہیں البتہ اگر حرام آمدنی کے علاوہ حلال کمائی کا بھی کوئی ذریعہ ہواوراس سے تنخواہ دیں یا غالب آمدنی حلال ہوتوپھروصول کرنا جائز ہے۔نیز اہل محلہ کو چایئےکہ امام صاحب کے لئے حلال مال سےتنخواہ اور کھانےکاانتظام کریں بصورت دیگراگر اہل محلہ اس کا اہتمام نہ کریں تو پھر کسی اور جگہ امامت اختیار کرنی چاہیئے۔
لمافی الھندیة:
والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله۔(کتاب الکراھیہ،الباب الخامس عشر فی الکسب:ج5/349،ط:رشیدیہ)
وفی ردالمحتار:
قوله ( الحرام ينتقل ) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك۔۔۔وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك.
(کتاب البیوع:باب البیع الفاسد،مطلب الحرمۃ تتعدد:7/300،301،ط:رشیدیہ)