جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حرم کے باہر سر مونڈنےکا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ عمرہ ادا کرنے کے بعد،کیا بال حددود ِحرم میں کاٹناضروری ہےیا ہم احرام کھولےبغیراپنی میقات پرآکراپنےبال کٹوا سکتےہیں؟-
واضح رہےکہ عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعدمرد کے لیے حلق (سرمنڈوانا) یا قصر (کم از کم ایک چوتھائی سر کے بال کم از کم ایک پورے کے برابر کاٹنا) اور عورت کے لیے سر کے کم از کم چوتھائی بالوں سے ایک پورے (انگلی کے تہائی حصہ) کے بقدر قصر کرنا حدود ِ حرم میں ضروری ہے ، حرم کے حدود سے باہر سر منڈوانے یا بال کٹوانے کی صورت میں دم لاز م ہوگا۔
لمافی ردالمحتار:
(قوله أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمكان، وهذا عندهما خلافا للثاني."
(کتاب الحج باب;الجنایات 2/554،ط:سعید)