جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
وتر کے دوران فجر کاوقت شروع ہوجائے تو وتر کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ وتر پڑھنے کے دوران فجرکاوقت شروع ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟-
واضح رہےکہ وتر کا آخری وقت صبح صادق تک ہے؛ لہذا اس سے پہلے وتر کی نماز ادا کرلینا ضروری ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم اگر وتر کے وقت کے اندر وتر کی نماز شروع کی اور نماز کے درمیان اس کا وقت ختم ہوگیا تو وتر مکمل کرلینے چاہیے، اس صورت میں بعد میں اس کی قضا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
لمافی مجمع الأنهر:
" وإلى أنه لو شرع في الوقتية عند الضيق ثم خرج الوقت في خلالها لم تفسد".
(کتاب الصلوة:1/146،ط:رشیدیہ)
وفی رد المحتار:
" وتجتمع أيضاً في الوقت بالنسبة إلى صلاة الصبح والجمعة والعيدين، فإنه يشترط في ابتدائها وانتهائها وحالة البقاء، حتى لو خرج قبل تمامها بطلت. وينفرد شرط الانعقاد عن شرط الدوام وعن شرط البقاء في الوقت بالنسبة إلى بقية الصلوات فإنه شرط انعقاد فقط إذ لايشترط دوامه ولا وجوده حالة البقاء".
(کتاب الصلوة:1/401،ط:سعید)