جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کیاحاجی پردم شکراورقربانی ایک ساتھ کرنالازمی ہے یاالگ الگ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ تمتع اور قرآن والے حاجی پر جب قربانی عید بھی لازم ہو تو ان دونوں قربانیوں یعنی دم شکر اور قربانی عید کو ایک دن میں کرنا لازمی ہے یا الگ الگ دنوں میں بھی کر سکتاہے ؟
حاجی پر قربانی سے متلق یہ تفصیل ہے کہ قربانی دو طرح کی ہوتی ہے:
(1) ایک قربانی تو وہ ہے جو صاحبِ نصاب مقیم پر واجب ہوتی ہے خواہ حج کرنے جائے یا نہ جائے، اگر حاجی صاحبِ نصاب ہے اور قربانی کے دنوں میں مکہ مکرمہ میں مقیم ہے، یعنی منی جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن اس کا قیام ہو یا مستقل وہیں رہتا ہے، تو اس پر یہ قربانی واجب ہے، اور اسے اختیار ہے کہ چاہے تو مکہ مکرمہ یا مدینہ میں قربانی کا انتظام کرے یا اپنے وطن میں قربانی کی رقم بھیج دے یا وطن میں کسی کو قربانی کرنے کا کہہ دے، البتہ منیٰ میں قربانی کرنے کا ثواب پوری دنیا کی تمام جگہوں سے زیادہ ہے۔ اور کسی بھی جگہ ایک قربانی کرنے سے یہ فرض ادا ہوجائے گا۔
(2) دوسری قربانی سے مراد "دمِ شکر" ہے، حجِ قِران اور تمتع کرنے والوں پر ایامِ نحر (10،11،12 ذوالحجہ) میں حلق (سرمنڈوانے) یا بال کٹوانے سے پہلے منیٰ یا حدود حرم میں یہ قربانی کرنا واجب ہے۔
لمافی:غنیۃ الناسک:
فاذا فرغ من الرمی یوم النحر انصرف الی رحلہ ویشتغل بشیء آخر فذبح ان شاء ، لانہ مفرد والذبح لہ افضل وانما یجب علی القارن والمتمتع.
(باب مناسک منی یوم النحر، فصل في الذبح و أحکامه، ص: ۱۷۲، ط :ادارۃ القرآن)
وفی:البحرا الرائق:
أاعلم ن ما يفعل في أيام النحر أربعة أشياء الرمي والنحر والحلق والطواف، وهذا الترتيب واجب عند أبي حنيفة ومالك وأحمد. .......وعندهما لا يلزمه شيء بتقديم نسك على نسك للحديث السابق إلا أنه مسيء نص عليه.
(کتاب الحج، باب الجنایات جلد:3، ص:26، ط: دار الکتاب الإسلامي)
وفی:بداٸع الصناٸع:
وإن کان قارنا أو متمتعا یجب علیہ أن یذبح ویحلق ویقدم الذبح علی الحلق، وروي عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: أول نسکنا في یومنا ہذا: الرمي، ثم الذبح، ثم الحلق۔
(کتاب الحج: 2/ 158،ط:رشیدیہ)
وفیہ ایضاً:
ولا تجب الأضحیۃ علی الحاج، وأراد بالحاج المسافر، فأما أہل مکۃ فتجب علیہم الأضحیۃ وإن حجوا.
(کتاب الأضحیۃ، فصل في شرائط وجوب الأضحیۃ،5/ 63،ط:رشیدیہ)