جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
طلاق کی جھوٹی خبر دینے پر طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک ادمی دوسرے ادمی کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے یہ کہنا کہ:میں نے اپنی بیوی کوطلاق دی ہے جبکہ اس سے پہلے کوئی مستقل طلاق بیوی کو نہ دی ہو۔کیا اس طرح جھوٹ بولنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟۔
کوئی شخص اگردوسرےادمی کوطلاق کی جھوٹی خبر دےتواس جھوٹی خبر کےدینےسے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔تاہم اللہ اور اس کا معاملہ الگ ہے۔اگر واقعی طلاق نہ دی ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی اور دوسرےشخص سے جھوٹ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو اس جھوٹی خبر سے اس کی بیوی پرقضاءً طلاق واقع ہوگی یعنی بیوی اگرعدالت میں قاضی کے سامنے خاوند کےاس اقرارکو ثابت کرے تو عدالت اس پر ایک طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ کرے گی ؛البتہ اگرمعاملہ عدالت میں نہ جائے تواگرخاوند اپنی بات میں سچا ہو تو دیانۃًکوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
لمافی:ردمع الدر:
لو أقر بالطلاق كاذباً، أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
(كتاب الطلاق، مطلب في الإكراه على التوكيل بالطلاق:4/440،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
لو أراد به الخبر عن الماضي كذبأ لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً. (كتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه:4/443،ط:سعید)
وفی:البحر الرائق:
" ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.
وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة"
(کتاب الطلاق:3/264،ط:رشیدیہ)