جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسبوق امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں صرف تشہد پڑھے گا، درود شریف اور دعا نہیں پڑھے گا!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر امام قعدہ آخرہ میں ہے اور مقتدی کی دوسری یا پہلی رکعت ہے تو مقتدی التحیات کے ساتھ درود شریف بھی پڑہےگا؟ یا سلام پھیرنے کا انتظار کرے گا؟
صورتِ مسئولہ اگر کسی شخص سے نماز باجماعت کی کچھ رکعتیں نکل گئی ہوں تو اس کے لیے امام کی اقتدا میں قعدہ اخیرہ میں صرف تشہد پڑھنے کاحکم ہے درود شریف اور دعا نہیں پڑھےگا،البتہ بہتر ہے کہ تشہد اتنے ہلکے رفتار سے پڑھے کہ امام کے سلام پھیرنے کے قریب ختم ہوجائے،یا تشہد باربار پڑھے۔
لمافی:الھندیة:
(ومنها) أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات، ثم ماذا يفعل؟ تكلموا فيه، وعن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله: أشهد أن لا إله إلا الله وهو المختار. كذا في الغياثية والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتى يفرغ عند سلام الإمام. كذا في الوجيز للكردري وفتاوى قاضي خان، وهكذا في الخلاصة وفتح القدير.
(کتاب الصلوة: الباب السابع في المسبوق:ج:1/91،ط:مكتبه رشيديه)