جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قرض کے بدل میں کرایہ کم کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ایک شخص نے کسی دوسرے کو چھ لاکھ روپے دیے ہیں اور اس شخص نے اپنا دکان دیا ہے اور دکان کا کرایہ بازار میں بیس ہزار ہیں اور مذکورہ شخص بیس ہزار کے بجائے ہر مہیینے ایک ہزار روپے دیتا ہے تو شرعاً ایسا معاملہ کرنا کیسا ہے؟-
واضح رہے کہ قرض لے کر کرائے میں کمی کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے؛ قرض کے عوض کسی قسم کا مشروط نفع اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ لہذا صورت مسئولہ میں قرض لینے کے وجہ سے کرایہ میں کمی کی جاتی ہے شرعاً ناجائز ہے ،اس طرح کے معاملہ سے اجتناب کیا جائے۔
لمافی:نتف الفتاوی:
"أنواع الربا: وأما الربا فهو علی ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الدیون، والثالث في الرهون. الربا في القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یوٴجره أو یهبه…، ولو لم یکن سبب ذلک (هذا ) القرض لما کان (ذلک) الفعل، فإن ذلک رباً، وعلی ذلک قول إبراهیم النخعي: کل دین جر منفعةً لا خیر فیه."
(انواع الربا،الربا فی القروض:1/484،ط:دارالفرقا)