جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
وطن اصلی سےجاتے ہوئے راستہ میں قصرنماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر کوئی شخص وطنِ اصلی سے وط
اقامت جارہا ہو، تودورانِ سفرقصرنمازکریں یااتمام؟۔
اگر کوئی شخص وطنِ اصلی سے وطنِ اقامت کا سفر کرے اور درمیان کی مسافت سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہو تو سفر شرعی شروع ہوتے ہی یہ شخص قصر کرے گا، جب وطن اقامت پہنچ جائے گا تو وہاں پوری نماز پڑھے گا۔
لمافی:الدرالمختار:
من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليهابالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة ۔۔۔ صلى الفرض الرباعي ركعتين ۔۔۔حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر.
(كتاب الصلوة،باب صلوةالمسافر:2/ 599-605،ط:سعید)
وفی:البحر الرائق:
"(من جَاوَزَ بُيُوتَ مِصْرِهِ مُرِيدًا سَيْرًا وَسَطًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ في بَرٍّ أو بَحْرٍ أو جَبَلٍ قَصَرَ الْفَرْضَ الرُّبَاعِيَّ) ... قَوْلُهُ: (حتى يَدْخُلَ مِصْرَهُ أو يَنْوِيَ الْإِقَامَةَ نِصْفَ شَهْرٍ في بَلَدٍ أو قَرْيَةٍ)."
(کتاب الصلوة: 2 / 138، 141،ط:رشیدیہ)