جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سنت نماز کی تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ پڑھنا بھول جانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ سنت نماز کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ ملانا بھول گیا، رکوع میں یاد آیا تو کیا حکم ہے؟
واجب ،سنت یا نفل کی تمام رکعات میں یا فرض کی پہلی دورکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا، تو اس صورت میں بہتر اور افضل یہ ہے کہ یاد آتے ہی رکوع سے کھڑا ہو جائے اور سورت پڑھے پھر رکوع کرے، اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔ اور یہ صورت بھی جائز ہے کہ رکوع کے بعد سجدہ میں چلا جائے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے ۔ دونوں صورتوں میں نماز ہو جائے گی ، دوبارہ پڑھنےکی ضرورت نہیں۔
لمافی:ردالمحتار:
"(قوله لوجوب تقديمها) أي تقديم قراءة الواجب. أما قراءة الفرض فتقديمها على الركوع فرض لا ينجبر بسجود السهو
والتحقيق أن تقديم الركوع على القراءة مطلقا موجب لسجود السهو."
(کتاب الصلوة:2/80،ط:رشیدیہ)
وفي :الفتاوى الهندية:
"وتجب قءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق."
(کتاب الصلوة:1/ 71،ط:دار الفكر)
وفيه أيضًا:
"ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي."
( کتاب الصلوة: 1/ 126ط:دار الفكر)
وفيه أيضًا:
"وإن تركها في الأخريين لايجب إن كان في الفرض وإن كان في النفل أو الوتر وجب عليه."
(کتاب الصلوة: 1/ 126،ط:دار الفكر)