جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
داڑھی کا مذاق اڑانے والوں کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
میرا سوال یہ ہے کہ جولوگ داڑھی والوں پربولتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں کیاشریعت میں یہ عمل درست یانہیں؟-
جولوگ داڑھی والوں کا مذاق اس لیے اڑاتے ہیں کہ داڑھی رکھنے والوں نے اپنے چہروں پرسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوسجارکھا ہےاوروہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں توایسے لوگوں کا صرف نکاح ہی نہیں ایمان بھی ختم ہوجاتاہے، ان پرلازم ہے کہ ایمان اورنکاح دونوں کی تجدید کریں اورآئندہ کے لیے سنت نبوی کی توہین سے باز رہیں۔ داڑھی رکھنے والوں پربھی لازم ہے کہ وہ خود بھی داڑھی کا احترام اورلحاظ رکھیں یعنی ایسی حرکات اور ایسے اعمال سے اجتناب کریں جن کی وجہ سے لوگ داڑھی کی توہین کے جرم میں مبتلاء ہوں۔
لمافی:ردالمحتار
"وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.ثم قال: ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمداً، بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافاً بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق."
(كتاب الجهاد، باب المرتد:4/222،ط: سعيد)