جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پنشن کی رقم میں میراث کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ایک شخص سرکاری ملازم تھا، اس کا انتقال ہوگیا،مرنے کے بعد حکومت کی طرف سے اس شخص کو پنشن ملا،اب پنشن میں میراث جاری ہوگایانہیں؟۔
شریعت مطہرہ کی رو سے میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں،یعنی جو مال بوقت وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو،وہ ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گااور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو،بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں میت کے پسماندگان کو دیا جائے،وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔پنشن کی رقم حکومت یا کسی بھی ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے،جو قبضہ کے بغیر ملکیت میں داخل نہیں ہوتی ،لہٰذاصورت مسئولہ میں میت کے مرنے کے بعد جو پنشن کی رقم ملتی ہے اس میں میراث جاری نہ ہوگا ،بلکہ حکومت کے قوانین کے مطابق یہ مراعات ورثا میں سے جس کو ملیں وہی اس کا مالک ہوگا ،میت کے باقی ورثا اس میں حقدار نہ ہوں گے۔
لمافی:الاشباہ والنظاٸر:
العطايا لايورث عنه.
(كتاب الفرائض:2 /495 إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)
وفی:بداٸع الصناٸع:
ولا يصح الصلح والاعتياض؛ لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث؛ لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا.
(كتاب الحدود ، 9/250،ط: دارالكتب العلمية)