جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
وکیل بالشراء کا موکل کو زیادہ قیمت میں چیز دینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ایک آدمی کو گاڑی خریدنے کوضرورت تھا اس ادمی نے دوسرے شخص سے کہا کہ ایک گاڑی خریدنی ہے، خریدارنے نولاکھ(900000) میں گاڑی خریدی اور مالک کو دس لاکھ(1000000) میں دیدیں،اورمالک راضی بھی ہو،اب سوال یہ ہے کہ خریدارکےلٸے اس طرح نفع لینا درست ہے یانہیں؟-
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کسی دوسرے شخص کے ذریعہ گاڑی خریدتا ہےتو اس صورت میں اس شخص کی حیثیت وکیل بالشراء(خریداری کے وکیل) کی ہوگی اور وکیل امین کے حکم میں ہوتا ہے ،لہذا اس صورت میں مذکورہ شخص کے لیے کم قیمت پر کوئی چیز خرید کر سائل (موکل) سے زیادہ قیمت لینا جائز نہیں ہوگا،ہاں اگر پہلے سے طے کرے کہ میں سامان لانے کی اتنی اجرت لوں گا اور سائل اس پر راضی ہو تو الگ سے یہ اجرت لے سکتاہے ۔
لمافی:شرح المجلۃ:
"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع."
(كتاب الوكالة،الباب الثالث في بيان احكام الوكالة ، المادة:1463:3/561، ط:دارالجيل)
وفيه ايضاّ:
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
(كتاب الوكالة، الباب الثالث في بيان احكام الوكالة،المادة:1467،:3/573،ط:دارالجیل)
وفی:المبسوط:
"وليس للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة."
(كتاب الوديعة:11/122، ط:دارالمعرفة)