جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بہن کو حصہ دیئےبغیرمشترکہ ترکہ میں تصرف کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر کسی بھائی نے بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا ہو،بلکہ خود ترکہ میں تصرف کرکے کاروبار شروع کیا ہونیزنفع بھی کمایا ہو،اور بعد میں بہن اپنا حصہ مانگ لے تو کیا تقسیم میراث کے وقت کا حصہ ان کو دیا جائے گا یا اب جتنا حصہ کاروبار میں ان کا بنتا ہے اس کے مطابق حصہ دینا لازمی ہوگا؟
واضح رہے کہ مشترکہ مال میراث میں جب کوئی وارث اپنی طرف سے تصرف کرے اور دیگر ورثا کی طرف سے اسے نہ صریحی اجازت حاصل ہو اور نہ اشارۃ، تو اس صورت میں اس کے لیے تصرف جائز نہیں لہذا مال مشترک سے حاصل شدہ نفع فقراء میں تقسیم کرے۔لیکن دیگر ورثا کی طرف سے اگر تصرف کی اجازت ہو تو یہ اجازت اگرشراکت کی بنیاد پر ہو تب حاصل شدہ نفع میں سب شریک ہوں گےاور اگرقرض کےطور پر ہو تب نفع سارا کا سارا تصرف کرنے والے کا ہی شمار ہوگا۔
صورت مسئولہ میں اگر بہن کا حصہ ان کی اجازت سے کاروبار میں لگایا ہو تو اگر بہن کی اجازت بطور قرض تھی تب نفع میں ان کا حصہ نہ ہو گا اور اگر اجازت بطور کاروبار میں شرکت کی تھی تو نفع میں بھی ان کا حصہ ہوگا لیکن اگر بہن کا حصہ اس طرح خرچ کیا ہو کہ ان کی طرف سے نہ صراحتا اجازت تھی اور نہ دلالۃ توناحق تصرف کی بنیاد پران کے حصہ سے حاصل شدہ نفع کو فقراء پر صدقہ کیا جائے گا۔
لمافی:شرح المجلة:
إذا أخذ أحد الورثة مبلغاً من الدراهم من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين و عمل فيه و خسر فتكون الخسارة عائدة إليه كما أنه إذا ربح فلا يسوغ لبقية الورثة طلب حصة منه) لأنه إما غاصب أو مستودع، وكل استريح فيما في يده لنفسه، يكون ربحه له لا للمالك، لكن يملكه ملكا خبيثا سبيله التصدق على الفقراء. (المادة:1090:/ 29۔ 30،ط:رشیدیہ)