جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کرایہ کی دکان کے لیے دی گئی ایڈوانس رقم پر زکوۃ کا حکم
کہ ہمارے علاقے میں لوگ اپنی دکان کرایہ پر کسی کو دینے کے لیےایڈوانس رقم لیتاہے،جودس لاکھ یااس کم یازیادہ پرمشتمل ہوتاہے اورکرایہ دکان الگ لیتا ہے،بعدمیں یہ یہ ایڈوانس رقم واپس کرایہ دارکوملتاہے،اب سوال یہ ہے کہ یہ ایڈوانس پردی ہوٸی رقم پرزکاة ہے یانہیں؟-
واضح رہے کہ ایڈوانس میں دی گئی رقم عقدِ اجارہ کے فسخ یا مدتِ اجارہ ختم ہونے پر کرایہ دار کو واپس کی جائے گی،یہ رقم دراصل مالکِ مکان کو بطورِ ضمانت دی جاتی ہے ،اس کی حیثیت مالِ مرہونہ کی ہے لیکن اس صورت میں مالکِ مکان کے لیے ایڈوانس رقم استعمال کرنا جائز نہیں،نیز جس طرح مالِ مرہونہ کی زکوۃ راہن اور مرتہن میں سے کسی پر واجب نہیں اسی طرح اس رقم کی زکوۃ فی الحال نہ تو مالکِ مکان پر ہے ،کیونکہ وہ اس رقم کا مالک نہیں ہے اور نہ اس رقم کی زکوۃ کرایہ دار پر ہے،کیونکہ ابھی یہ رقم اس کے قبضہ میں نہیں ہے،جبکہ زکوۃ کے وجوب کی ایک شرط ملکِ تام ہے اور ملکِ تام عبارت ہے مال کے مملوک اور مقبوض ہونے سے اور شئی مرہونہ چونکہ اس کے مالک کے قبضہ میں نہیں ہے اس لیے اس پر ملکِ تام حاصل نہیں لہذا اس پر زکوۃ واجب نہ ہوگی ۔
لمافی:الفتاویٰ الھندیة:
"ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج....(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله - تعالى - كدين الزكاة."
( كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة:172/1، ط رشيدية)
وفی:رد المحتار:
"(قوله: ولا في مرهون) أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد."
( كتاب الزكاة، 263/2، سعيد)