جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چرس اور ہیروئین کاشرعی حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
1. . . . . کہ چرس اورہیروٸین کا کاروبار اوراستعمال ازروشریعت درست ہے یانہیں؟-
1. . . . . واضح رہے کہ اس وقت ہیروئین اور چرس صرف بطور نشہ و معصیت ہی میں استعمال ہوتی ہے اور نشہ کے عادی افراد ہی اسے خریدتے ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق اس وقت ان کا کوئی جائز مصرف موجود نہیں ہے اس لئے ان کی تجارت کا مشغلہ اختیار کرنا ناجائز اور گناہ ہے اور ان کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی نا جائز ہے جسے بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے ،لہٰذا اس کاروبار سے مکمل اجتناب لازمی ہے۔
لمافي:الدرمع رد:
(وصح بيع غير الخمر ) مما مر ، ومفاده صحة بيع الحشيشةوالافيون .
(قوله وصح بيع غير الخمر ) اى عنده خلافا لهمافي البيع والضمان لكن الفتوى على قوله في البيع .... الى
قوله..... ثم ان البيع وان صح لكنه يكره كما في العناية (قوله عدم الحل) اى لقيام المعصية بعينها وذكر ابن الشحنة انه يؤدب بائعها .
(کتاب البیوع:6/454،ط:سعید)