جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دوسرے ملک میں مقیم افراد اپنی اہلیہ اور بچوں کا صدقہ فطر کس قیمت کے حساب سے ادا کریں گے؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
میں سعودی عرب میں مقیم ہوں، اورمیرے اپنے بیوی بچے پاکستان میں مقیم ہےکیا مجھے اپنے بیوی بچوں کا صدقہ فطر بھی سعودی عرب کے حساب سے ادا کرنا ہوگا یا میں ان کا صدقہ فطر پاکستان کے حساب سے پاکستان میں ادا کر سکتا ہوں؟ جب کہ وہ پاکستان میں مقیم ہیں اور وہیں عید بھی منا رہے ہیں؟
صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو گندم ہے اور کھجور، جو اور کشمش کے حساب سے ساڑھے تین کلو کھجور، جَو اور کشمش ہے، چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہذا اگر آپ سعودی عرب میں مقیم تھے اور عید الفطر بھی وہیں کی ہے تو آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر قطر کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوا تھا، لہذا اب اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر بھی وہیں کی قیمت کے حساب ادا کردیں خواہ آپ یہ قیمت سعودی عرب میں ادا کریں یا آپ کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔
باقی آپ کی اہلیہ اور آپ کے بالغ بچے جو کہ پاکستان میں ہیں، ان پر ان کا اپنا صدقہ فطر پاکستان کے نرخ کے مطابق لازم ہوا تھا، لہذا وہ خود پاکستان میں پاکستان کی قیمت کے حساب سے دے سکتے ہیں، اور اگر آپ کی ان کی طرف سے ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایسی قیمت لگانا بہتر ہے جس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو۔
لمافی:الدرمع رد:
"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.
(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".
(کتاب الزکاة:2/355،ط:سعید)
وفی:الفتاوى الهندية:
"ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد، وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال، وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح، كذا في التبيين. وعليه الفتوى، كذا في المضمرات".
(کتاب الزکاة:1/190،ط:رشیدیہ)