جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کو دفنانے کے بعد قبر پر تین مرتبہ دعا کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
میت کودفنانےکےبعدمروجہ تین مرتبہ دعاؤں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟۔
صورتِ مسئولہ میں میت کو دفنانےکےبعدقبرپردعا کرناثابت ہے،ہاتھ اٹھا کر بھی کر سکتے ہیں؛ حضورﷺ سے قبر پرقبلہ رو ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے قبلہ رو ہونا چاہیےکہ اس میں میت سے مانگنےکاشائبہ نہیں ہوتا ہے، البتہ اس میں تعداد(تین بار دعا)کی تعداد لازمی نہ سمجھا جاۓ،لہذا ایک مرتبہ ہی میں خوب دعا کرنی چاہیے۔
لمافی مرقاة المفاتيح:
"عن ابن مسعود قال: والله فكأني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبر عبد الله ذي البجادين، وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة، حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول صلى الله عليه وسلم وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه يقول: «اللهم إني أمسيت عنه راضيا فارض عنه» ، وكان ذلك ليلا، فوالله، لقد رأيتني ولو وددت أني مكانه."
(باب دفن المیت:3/1222،ط:دارالفكر، بيروت - لبنان)
وفی الھندیة:
"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى."
(كتاب الكراهية،الباب السادس عشر في زيارة القبور و قراءة القرآن في المقابر:5/350،ط: دار الفکر)