جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چمن سے باڈرمیں قصر نمازکاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ہم چمن شہر میں رہتے ہیں، ہم چمن کی حدود سے تقریباً 78 کلو میٹر کے فاصلے پر، افغانستان کی جانب سفرکرتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہےکہ جب ہم افغانستان کےدور دراز علاقوں میں جاتے ہیں، توچمن شہرسے نکلتے ہی ہم باڈرمیں قصرنمازپڑسکتےہیں یانہیں؟-
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اپنے شہرچمن سے، جب تین دن تین رات کی مسافت کے سفر کے ارادہ سے نکلے، جس کا اندازہ اڑتالیس (48)میل یاسواستتر(25. 77))کلومیٹرسے لگایا گیا ہے اورسائل کا ارادہ پندرہ دن سے کم قیام کا ہو ، توسائل اپنے شہر (چمن)سے نکلتے ہی قصر کرےگا۔
اوریہ واضح ہوکہ باڈرمستقل ملک میں مستقل شہرہےلھذاباڈرمیں قصرنمازپڑھنادرست ہے۔
لمافی:ردالمحتار:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر... (قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها)... (صلى الفرض الرباعي ركعتين)."
(كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر:2/121، ط:دار الفكر بيروت)
وفی:تحفۃ الفقہاء:
"لكن إنما تثبت الإقامة بأربعة أشياء بصريح نية الإقامة وبوجود الإقامة بطريق التبعية وبالدخول في مصره وبالعزم على العود إلى مصره... وأما الثالث فهو بدخول مصره الذي هو وطنه الأصلي يصير مقيما وإن لم ينو الإقامة."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر:1/152،ط:دار الكتب العلمية بيروت)