جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
رقم(روپیہ) منتقل کرنے کی اجرت؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ میرےپاس ایک دکان ہے اپنے بینک اکاؤنٹ میں باہر سےپیسے منگواکر یہاں کسٹمرس کو پیسے دیتے ہیں اوراجرت لیتے ہیں ،یہ اجرت فی ہزار دس روپئے ہےاوردس ہزار پہ سوروپئےمعاؤضہ ہوئےتوکیااس طرح اجرت لیناجائز ہے یاکوئی دوسری صورت اجرت کی ہو توکرم کرکےواضح طریقے سےمع دلیل جواب ارسال فرمائیں-
واضح رہے کہ رقم منتقلی کی سروس فراہم کرنے کے عوض میں اجرت لینا جائز ہے، تاہم یہ اجرت اس رقم کے علاوہ پیسوں سے ادا کی جائے گی، منتقل کی جانے والی رقم سے نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں رقم منتقلی کی سروس کے عوض طے شدہ اجرت لینا جائز ہے، جب کہ اجرت اصل رقم سے نہ لی جائے۔
لمافی:الدرمع رد:
"(وكل ما صلح ثمنًا) أي بدلًا في البيع (صلح أجرة) لأنها ثمن المنفعة."
(کتاب البیوع:4/61،ط:سعید
وفیہ ایضاً:
"وأفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدةً؛ لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ... وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ."
( کتاب الحدود، باب التعزیر: 4 /61، ط: ایچ، ایم، سعید)
فیہ ایضاً:
"(قوله کل قرض جر نفعا حرام) ای اذا کان مشروطا کما علم مما نقله عن البحر".
(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة،فصل فی القرض، مطلب کل قرض جر نفعا حرام:166/5، ط: سعید)