جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں!
کہ بعض لوگ کام کاج کے کپڑوں میں مثلاً مکینک یا مزدور وغیرہ اور گیراج والے جو نماز پڑھتے ہیں، تو کیا اس سے نماز میں کوئی فرق تو نہیں آتا؟
کام کاج کے کپڑے اگر نجس اور ناپاک نہ ہوں تو ایسے لباس میں بھی نماز اگرچہ ہو جاتی ہے، مگر ایسا لباس فقہاءِ کرام نے مکروہ لکھا ہے، کیونکہ جس لباس میں آدمی کسی باوقار شخص سے ملاقات یا مجلس میں شرکت کرنے سے عار محسوس کرے،ایسے لباس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عبادت کرنے میں زیادہ عار محسوس کرنی چاہیۓ۔
لمافی:الفتاوى الهندية:
وتكره الصلاة في ثياب البذلة. كذا في معراج الدراية اھ.
(کتاب الصلوة:1/ 107،ط:رشیدیہ)
وفي:الدرمع رد:
(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا اھ.
(قوله وصلاته في ثياب بذلة) قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية. (کتاب الصلاة:1/ 641،ط:سعید)