جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
غیر مسلم سے گوشت خریدنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کیا غیر مسلم سےگوشت خریدنا جاٸز ہےیانہیں؟۔
واضح رہے کہ حلال جانور اور حلال پرندہ وغیرہ کا گوشت حلال و حرام ہونے میں اصل مدار ذبح کرنے والے پر ہے، اگر ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب ہے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہے تو اس گوشت کا کھانا جائز ہے اور اگر ذبح کرنے والا غیر مسلم ہے،مسلمان اور اہل کتاب نہیں ہے تو اس گوشت کا کھانا جائز نہیں ۔
نوٹ:آج کل کے جو"اھل کتاب" ہےوہ اپنے دین اورکتاب پرقاٸم نہیں ہے لہذاان کاکیاہواذبیحہ کےگوشت کھانایاخریدنا درست نہیں ہے۔
لمافی:بدائع الصنائع:
"(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد أما ذبيحة أهل الشرك فلقوله تعالى {وما أهل لغير الله} [المائدة: 3] وقوله عز وجل {وما ذبح على النصب} [المائدة: 3] أي للنصب وهي الأصنام التي يعبدونها.
وأما ذبيحة المجوس فلقوله - عليه الصلاة والسلام :سنوا بالمجوس سنة أهل الكتاب غير ناكحي نسائهم ولا آكلي ذبائحهم" ولأن ذكر اسم الله تعالى على الذبيحة من شرائط الحل عندنا لما نذكر ولم يوجد.
وأما المرتد؛ فلأنه لا يقر على الدين الذي انتقل إليه فكان كالوثني الذي لا يقر على دينه."
(کتاب الذبائح و الصیود: فصل فی بیان شرط حل الاکل فی الحیوان الماکول :5 /45،ط: رشیدیہ)
وفی:الھندیة:
"(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد."
(کتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه ج: 5/ 285، ط: رشیدیۃ)
وفیہ ایضاً:
"ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام."
(کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم:5 /374،ط:رشیدیہ)