جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
گارنٹی پر خریدوفروخت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل جو چیزیں گارنٹی پر فروخت کی جاتی ہے اور گارنٹی کی مدت کے دوران اگر وہ چیز خراب ہو جائے تو اس کے بدلے میں مشتری کو دوسری چیز دے دی جاتی ہے شرعاً یہ کیسا ہے؟۔
واضح رہےکہ گارنٹی دینا یعنی اپنے پروڈکٹ میں کوئی خرابی نکلنے کی صورت میں اسے تبدیل یا مرمت کرنے کی ذمہ داری کی شرط لگانا یہ خرید و فروخت میں ایک زائد شرط لگانا ہے، جو کہ اصولاً ناجائز ہونی چاہیے اور بیع فاسد ہوجانی چاہیے، لیکن عرف عام اور تعامل کی وجہ سے فقہاء نے ایسی شرائط جو کہ مقتضیٰ عقد کے خلاف ہوں، لیکن ان کا عرف اور رواج ہوچکا ہو، بیع کے لیے مفسد قرار نہیں دیا ہے، بلکہ ایسی شرائط کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا گارنٹی دینا شرعاً جائز ہے۔
لہذاگارنٹی پر خریدنے اور بیچنے کی حقیقت یہ ہے کہ بائع اپنے اوپر اس بات کو لازم کر لیتا ہے کہ اتنی مدت کے دوران اگر اس چیز میں کوئی خرابی پائی گئی تو میں واپس لے لوں گا یا درست کروا دوں گا ، یہ بیع جائزہے ، کیوں کہ اگر بائع ایسے عیب کی وجہ سے بھی واپس لینے پر راضی ہو جو مشتری کے پاس جاکر پیدا ہوا، یااس کی اصلاح پر راضی ہو، تو یہ اس کی طرف سے اپنے اوپر رد اصلاح کا التزام ہے اور ایسا التزام درست ہوتا ہے۔
لمافی:الدرمع رد:
"أو (جرى العرف به كبيع نعل) أي صرم سماه باسم ما يئول عيني (على أن يحذوه) البائع (ويشركه) أي يضع عليه الشراك وهو السير ومثله تسمير القبقاب (استحسانا للتعامل بلا نكير)."
"(قوله استحسانا للتعامل) أي يصح البيع ويلزم للشرط استحسانا للتعامل.
والقياس فساده؛ لأن فيه نفعا لأحدهما وصار كصبغ الثوب، مقتضى القياس منعه؛ لأنه إجارة عقدت على استهلاك عين الصبغ مع المنفعة ولكن جوز للتعامل ومثله إجارة الظئر، وللتعامل جوزنا الاستصناع مع أنه بيع المعدوم، ومن أنواعه شراء الصوف المنسوج على أن يجعله البائع قلنسوة، أو قلنسوة بشرط أن يجعل البائع لها بطانة من عنده، وتمامه في الفتح. وفي البزازية: اشترى ثوبا أو خفا خلقا على أن يرقعه البائع ويسلمه صح اهـ."
(كتاب البيوع:5/88، ط:سعيد)