جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بالائی اور پنیر نکال کر دہی بیچنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ہم جب دودھ گرم کرتے ہیں تو اس وقت ہم دودھ کی بالائی اور پنیر نہیں اتارتے بلکہ دہی تیار ہونے کے بعد پنیر اتارتے ہیں اور خالص دہی بیچتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟۔
واضح رہےکہ جب مبیع معلوم ہو اوراس میں کوئی دھوکہ نہ ہویا مشتری اس کے خریدنے پر رضامند ہو تو بائع کے لئے اس کا بیچنا جائز ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگرعرف میں بالائی اور پنیر اتار کر دہی بیچا جاتا ہو تو پھر یہ جائز ہے ، البتہ اگر عام طور پر پنیر اور بالائی کو نہ اتارا جاتا ہو اور بیچتے وقت مشتری کو اس کا علم بھی نہ ہو تو یہ دھوکہ کی ایک صورت ہونے کی بنا پردرست نہ ہوگا ۔
لمافی:صحیح ابن حبان:
عن أبي هريرة قال:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر.
(ذكر الزجر عن بيع الحمل في البطن…، رقم الحدیث: 4951،:11/327،ط:قدیمی)
وفی:ردالمحتار:
لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام.
(کتاب البیوع:باب خيار العيب، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار:5/45،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام ،إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان.
(کتاب البیوع: مطلب في جملة ما يسقط به الخيار:5/47،ط:سعید)