جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
روڈ ایکسیڈنٹ میں ہلاکت کی صورت میں دیت و قصاص کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ٹریکٹر کا ڈرائیور ٹریفک کے قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ٹریکٹرکوروڈکی اخری ساٸیڈ سےباہر جوزمین ہے اس میں کھڑاکیا البتہ فٹ پات پرصرف ایک ٹاٸیرتھا،لیکن پیچھےسےایک تیزرفتارموٹر سائیکل والےنے ٹکرمار کرفوت ہوگیااب ازروۓ شریعت ٹریکٹروالاپردیت اورکفارہ ہے یانہیں؟۔
صورت مسٸولہ میں بشرط صدق ساٸل کے بعد ٹریکٹر کےڈرائیورنے اگر مروجہ ٹریفک قوانین کے مطابق روڈ کےمقررکردہ حدسے ہٹ کر ٹریکٹرکھڑاکیاتھااورموٹرساٸیکل کےڈراٸیور آکر اس نےٹکرمارا اورفوت ہوگیا تو اس صورت میں مذکور ٹریکٹر کے ڈراٸیور پر نہ دیت ہے نہ کفارہ۔
لمافى فتح القدير:
قال:ومن قاد قطاراً فهو ضامن لما أوطأ)، فإن وطئ بعير إنساناً ضمن به القائد والدية على العاقلة؛ لأن القائد عليه حفظ القطار كالسائق وقد أمكنه ذلك وقد صار متعدياً بالتقصير فيه، والتسبب بوصف التعدي سبب للضمان، إلا أن ضمان النفس على العاقلة فيه وضمان المال في ماله.
(باب جنايةالبهيمةوالجنايةعلیھا:10/330،ط:دار الفكر)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته:
"أما إذا کان المخطئ أحد المتصادمین کان الضمان علیه باتفاق الفقهاء".
(القسم الخامس:الفقه العام،الباب الثالث:الجنايات وعقوباتها: القصاص والديات:7/5790،ط؛دار الفکر)
وفی الدرمع الرد:
"الأصل أن المرور في طریق المسلمین مباح بشرط السلامة فیما یمکن الاحتراز عنه ، ضمن الراکب في طریق العامة ما وطئت أو خطبت بیدها أو صدمت".
(کتاب الجنایات:بالبهیبم جنایة امةوالجنایةعلیها:10/21،ط:رشیدیہ)