جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
گاڑی پر زکاة کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ گاڑی پر زکاة واجب ہے یا نہیں؟۔
اگر گاڑی تجارت کے لئے ہو تو اُس کی قیمت موجودہ پر زکاة واجب ہوگی اگر کرایہ پر چلانے کے لئے ہو تو گاڑی یا اُس کی قیمت پر زکات نہیں البتہ اُس سے حاصل ہونے والے کرایہ پر مطابق شرائط زکاة واجب ہوگی اگر اپنے استعمال کے لئے ہو تو ایسی گاڑی پر زکاة واجب نہیں ہوتی۔
لمافی:"ردمع الدر:"
"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل". (کتاب الزکاة:2/272،ط:سعید)
وفی:"الفتاوی الھندیة:
كذلك العطار لو اشترى القوارير، ولو اشترى جوالق ليؤاجرها من الناس فلا زكاة فيها؛ لأنه اشتراها للغلة لا للمبايعة۔
( كتاب الزكوة، فصل مسائل شتی في الزكوه، :1/241،ط:رشیدیہ)
وفی:"فتاوی قاضی خان":
إذا آجر داره أو عبده بمائتي درهم لا تجب الزكاة ما لم يحل الحول بعد القبض في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى فإن كانت الدار والعبد للتجارة وقبض أربعين درهماً بعد الحول كان عليه درهم بحكم الحول الماضي قبل القبض لأن أجرة دار التجارة وعبد التجارة بمنزلة ثمن مال التجارة في الصحيح من الرواية۔(کتاب الزکاة:فصل في مال التجارت: 1/124،ط:رشیدیہ)