جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مدرسہ کو زکات دینے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ مدرسہ کو زکوة دینا جاٸزہے یا نہیں؟-
صورتِ مسئولہ میں اگرمدرسہ میں زیرتعلیم طلبہ بالغ مستحق ہوں،یامستحق والدین کے نابالغ بچہ ہوں تو ایسے طلبہ کو زکات دی جا سکتی ہے، اسی طرح سے مدرسہ کے ذمہ دار کواپنی زکات تقسیم کرنےکاوکیل بھی بنایاجاسکتا ہے، البتہ مدرسہ کی تعمیرات، اساتذہ کی تنخواہ، گیس بجلی وغیرہ کے بل زکات کی رقم سے ادا نہیں کیے جاسکتے۔ تاہم مستحق طلبہ کو زکات کی رقم کا باقاعدہ مالک بنانے کے بعد ان سے تعلیمی و دیگر اخراجات کی مد میں فیس کے طور پر وصول کرکے اساتذہ کی تنخواہ، گیس، بجلی وغیرہ کےبل اور دیگر اخرجات اداکیےجاسکتے ہیں ۔
لمافی الفتاوی الھندیة:
وَلَايَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِالزَّكَاةِ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا الْقَنَاطِرُ وَالسِّقَايَاتُ، وَإِصْلَاحُ الطَّرَقَاتِ، وَكَرْيُ الْأَنْهَارِ وَالْحَجُّ وَالْجِهَادُ وَكُلُّ مَا لَا تَمْلِيكَ فِيهِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يُكَفَّنَ بِهَا مَيِّتٌ، وَلَايُقْضَى بِهَا دَيْنُ الْمَيِّتِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَلَايُشْتَرَى بِهَا عَبْدٌ يُعْتَقُ، وَ لَايَدْفَعُ إلَى أَصْلِهِ، وَإِنْ عَلَا، وَفَرْعِهِ، وَإِنْ سَفَلَ كَذَا فِي الْكَافِي."
( كتاب الزكوة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الْمَصَارِفِ، ١ / ١٨٨، ط: دار الفكر)