جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بھتیجےکو زکاۃ دینے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کیا اپنےبھتیجے کوجو بےروزگار ہیں، ان کوزکاۃدی جاسکتی ہے؟-
بھتیجےاگر زکاۃ کےمستحق ہیں یعنی ان کی ملکیت میں ضرورتِ اصلیھ سے زائدنصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کےبرابررقم نہ ہو، اورنہ ہی اس قدرضرورت و استعمال سے زائد سامان ہو کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہےاورنہ ہی وہ سید، ہاشمی ہیں توان کوزکاۃ دینا جائز ہے، بلکہ ان کو زکاۃدینے میں دوہرا اجر ہے، زکاۃ کا بھی، اور صلہ رحمی کا بھی۔
لمافی ردالمحتار:
"وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة.
وفي الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب."
( کتاب زکوۃ:باب مصرف الزكاة والعشر2/346،ط: سعید)