جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میراث کے متعلق مسئلہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ حاجی عبداللہ مر گیا جس کے ورثہ میں ایک بیوی دو بیٹے اور ایک بیٹی رہ گئی اب ان ورثاء کے درمیان شرعی طریقے سے میراث کس طرح تقسیم ہوگا ؟
واضح رہے کہ ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے مرحوم کے مال سے تین حقوق ترتیب وار ادا کیے جائیں گے؛ پھر ترکہ تقسیم کیا جائے گا
1_تجہیز و تکفین کا درمیانہ خرچہ نکالا جائے گا شریعت کے مطابق۔
2_ پھر ان کے ذمے اگر واجب الاداء قرض یا دیگر مالی واجبات ہو تو وہ بقیہ مال سے ادا کیا جائے
3_ پھر اگر انہوں نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہوں تو بقیہ مال کے ایک تہائی تک اسے نافذ کیا جائے ؛
پھر بقیہ ترکہ سے شرعی ورثہ کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کل جائیداد کو چالیس (40) برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو پانچ ،(5) حصے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ ،( 14 )،حصے اور ایک بیٹی کو سات ،(7)؛ حصے دیا جائے گا ۔
فیصد کے اعتبار سے بیوی کو بارہ اشاریہ پانچ (12.5)فیصد، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو پینتیس (35) فیصد، اور ایک بیٹی کو سترہ اشاریہ پانچ (17.5) فیصد ملے گا۔
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ حاجی عبداللہ مر گیا جس کے ورثہ میں ایک بیوی دو بیٹے اور ایک بیٹی رہ گئی اب ان ورثاء کے درمیان شرعی طریقے سے میراث کس طرح تقسیم ہوگا ؟
مستفتی :حاجی عبیداللہ
رابطہ :03138339778
بمعرفت: مفتی انور شاہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے مرحوم کے مال سے تین حقوق ترتیب وار ادا کیے جائیں گے؛ پھر ترکہ تقسیم کیا جائے گا
1_تجہیز و تکفین کا درمیانہ خرچہ نکالا جائے گا شریعت کے مطابق۔
2_ پھر ان کے ذمے اگر واجب الاداء قرض یا دیگر مالی واجبات ہو تو وہ بقیہ مال سے ادا کیا جائے
3_ پھر اگر انہوں نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہوں تو بقیہ مال کے ایک تہائی تک اسے نافذ کیا جائے ؛
پھر بقیہ ترکہ سے شرعی ورثہ کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کل جائیداد کو چالیس (40) برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو پانچ ،(5) حصے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ ،( 14 )،حصے اور ایک بیٹی کو سات ،(7)؛ حصے دیا جائے گا ۔
فیصد کے اعتبار سے بیوی کو بارہ اشاریہ پانچ (12.5)فیصد، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو پینتیس (35) فیصد، اور ایک بیٹی کو سترہ اشاریہ پانچ (17.5) فیصد ملے گا۔
لما فی القرآن المجید:
یو صیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین ..... (الخ)
سورة النساء : الآیة، 11 پارہ 4 ۔
و فی الھندیة :
الترکة تتعلق بھا حقوق اربعة جھاز المیت و دفنہ و دین والوصیة ..... (الخ)
کتاب الفرائض : 447 /6؛ ط (رشیدیہ)
و فی السراجی :
وھم اربعة اصناف جزءالمیت و اصلہ و جزء ابیہ و جزءجدہ..... (الخ)
باب العصبات ؛ 36 ؛ ط : (بشری)