جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
والدہ ایک بھائی اور دو بہنیں میراث تقسیم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک شخص مر گیا غیر شادی شدہ، اس نے ماں، ایک بھائی، 2 بہنوں کو شادی شدہ چھوڑ ، متوفی کے پاس زرعی اراضی تھی، اب سب کا مالک کون ہو گا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ/ میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلےمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر اس کے ذمہ کسی کا کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اسنے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 24حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی والدہ کو اس میں سے 4 حصے اور بھائی کو 10 حصے اور ہر ایک بہن کو5/5 حصے ملیں گے۔
یعنی فیصد کے اعتبار سے ۱۰۰ روپے میں سے16.66 مرحوم کی والدہ کو ،41.66 بھائی کو ، اور 20.83 روپے ہر ایک بہن کو ملیں گے_