جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سورہ فاتحہ کے بعد آمین نہ کہنے سے نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر امام نماز پڑھا رہا ہو اور وہ سورۂ فاتحہ مکمل کرنے کے بعد آمین نہیں بول رہا، کیا اس سے نماز خراب تو نہیں ہورہی؟
امام اور تنہا نما زپڑھنے والے مرد و عورت کے لیے نماز میں سورۂ فاتحہ کے ختم پر آہستہ ’’آمین‘‘ کہنا سنت ہے،اور جان بوجھ کر امام کا ’’آمین‘‘ کو ترک کرنا درست نہیں ہے، عمداًترکِ سنت کی وجہ سے نماز مکروہ ہوگی، البتہ اگر امام آہستہ آواز سے آمین پر تلفظ کرتاہو تو آمین کہنے کی سنت ادا ہوجائے گی۔
لما فی رد المحتار
"(قوله:وأمن) هو سنة للحديث الآتي المتفق عليه، كما في شرح المنية وغيره".(492/1)
وفی بدائع الصنائع :
"لأنّ ترك السنة لايفسد الصلاة، و لكن يوجب الكراهة کتاب الصلاة"(427/2)
وفی الدرالمختار
"(وسننها) ترك السنة لايوجب فسادًا ولا سهوًا بل إساءةً لو عامدًا غير مستخف، و قالوا: الإساءة أدون من الكراهة".(473/1)