جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بچوں کو ملنے والے تحائف کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ بچوں کو پیدائش پر اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً تحفتاًپیسے ملتے رہتے ہیں، کیا ان پیسوں سے والدین بچوں کی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں وہ جو والدین کی ذمہ داری ہے؟ اور ان پیسوں پر والدین کا کتنا حق ہے؟۔
چوں کو ملنے والے تحفہ تحائف پر بچوں کی ملکیت ہوتی ہے، جسے والدین اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتے ، بچوں کی ضروریات میں خرچ کرنا لازم ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اس رقم سے بچوں کی ضروریات، دودھ ، و غذائی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں، اس لیے کہ اگر نابالغ بچے کی ملکیت میں مال موجود ہو تو اس کا نفقہ شرعًا والد پر واجب نہیں ہوتا، بلکہ اسی کے مال سے اداء کرنے کا حکم ہے، البتہ اگر بچہ کی ملکیت میں کچھ بھی نہ ہو تو اس کا نفقہ والد پر شرعًا لازم ہوتا ہے۔
لمافی فتاوی شامیة:
"مطلب: للصغير و المكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه."
(باب النفقة، ٣ / ٦١٢، ط: دار الفكر)
وفی مجمع الأنهر:
"فصل (و نفقة الطفل) الحرّ (الفقير) و كذا السكنى و الكسوة تجب (على أبيه) بالإجماع سواء كان الأب موسرًا أو معسرًا لكن على المعسرة تفرض عليه بقدر الكفاية و على الموسر بقدر ما يراه الحاكم و إن كان الأب عاجزًا يتكفف و ينفق و قيل:نفقته في بيت المال و إن كان قادرًا على الكسب اكتسب، و إن امتنع عنه حبس كما في الفتح و لايحبس والد وإن علا في دين ولده وإن سفل إلا في النفقة قيد بالطفل؛ لأن البالغ لايجب نفقته على أبيه إلا بشروط كما سيأتي وقيد بالفقير؛ لأنه ينفق على الغني من ماله فإن أنفق الأب من ماله رجع على ماله بشرط الإشهاد وقيدنا بالحر؛ لأن الوالد المملوك نفقته على مالكه لا على أبيه."
(باب النفقة، فصل نفقة الطفل الفقير، ١ / ٤٩٦ - ٤٩٧، ط: دار إحياء التراث العربي)